نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 208
۱۸۷ خلافت احمدیہ احادیث صحیحہ سے مسئلہ خلافت کے متعلق یہ واضح حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ امت محمدیہ کے آخری دور میں بھی اسی طرح کی کامل خلافت راشدہ کا قیام مقدر تھا جس طرح کی اسلام کے دور اول میں قائم ہوئی تھی۔امت محمدیہ کے آخری حصہ کو بھی صلى الله آنحضرت ﷺ نے نہایت با برکت قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا:۔مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرَ لَا يُدْرَى آخِرُهُ خَيْرٌ أَمْ اَوَّلُهُ۔( مظاہر جدید شرح مشکوۃ شریف جلد ۵ ص ۹۱۳ ، باب امت محمدیہ کا بیان دارالاشاعت اردو بازار کراچی) یعنی میری امت کی مثال اس بارش کی ہے جس کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا آخری حصہ زیادہ مفید اور باعث خیر ہے یا پہلا حصہ زیادہ مفید اور باعث خیر ہے۔پھر اسی حدیث کے آخر میں فرمایا ہے کہ وہ امت کس طرح ہلاک ہوسکتی ہے جس کے شروع میں میں ہوں اور آخر میں مسیح موعود ہوگا۔اس آخری دور اسلام کے بارے میں مزید خوشخبری دی کہ:۔إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ لَهُمُ مِثْلُ أَجْرٍ أَوَّلِهِمْ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقَاتِلُونَ أَهْلَ الْفِتَنِ۔( مظاہر جدید شرح مشکوۃ شریف جلد ۵ ص ۹۱۶ ، باب امت محمدیہ کا بیان دارالاشاعت اردو بازار کراچی ) اس امت کے آخری حصہ میں ایسی جماعت ہوگی جن کو صحابہ کی طرح اجر ملے گا۔وہ امر بالمعروف کرنے والی ہوگی اور نہی عن المنکر کرے گی۔اس جماعت کے لوگ تمام اہل فتن کا مقابلہ کر کے انہیں شکست دیں گے۔