نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 201
۱۸۰ رنگ میں مسلمانوں کو کوئی فیصلہ کرنے دیں تاکہ وہ جسے چاہیں خلیفہ بنالیں حالانکہ وہ اس کام کے لئے مقرر ہی نہیں ہوئے تھے مگر بہر حال ان دونوں نے اس فیصلہ کا اعلان کرنے کے لئے ایک جلسہ عام منعقد کیا اور حضرت عمر و بن العاص نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے کہا کہ پہلے آپ اپنے فیصلہ کا اعلان کر دیں بعد میں میں اعلان کر دوں گا۔چنانچہ حضرت ابو موسیٰ نے اعلان کر دیا کہ وہ حضرت علی کو خلافت سے معزول کرتے ہیں اس کے بعد حضرت عمرو بن العاص کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ابوموسیٰ نے حضرت علی کو معزول کر دیا ہے اور میں بھی ان کے اس بات سے متفق ہوں اور حضرت علی کو خلافت سے معزول کرتا ہوں لیکن معاویہ کو میں معزول نہیں کرتا بلکہ ان کے عہدہ امارت پر انہیں بحال رکھتا ہوں (حضرت عمرو بن العاص خود بہت نیک آدمی تھے لیکن اس وقت میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا تھا) اس فیصلہ پر حضرت معاویہ کے ساتھیوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ جو لوگ حکم مقرر ہوئے تھے انہوں نے علی کی بجائے معاویہ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور یہ درست ہے۔مگر حضرت علیؓ نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ نہ حکم اس غرض کے لئے مقرر تھے اور نہ ان کا یہ فیصلہ کسی قرآنی حکم پر ہے۔اس پر حضرت علی کے وہی منافق طبع ساتھی جنہوں نے حکم مقرر کرنے پر زور دیا تھا یہ شور مچانے لگ گئے کہ حکم مقر رہی کیوں کئے گئے تھے جبکہ دینی معاملات میں کوئی حکم ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت علی نے جواب دیا کہ اول تو یہ بات معاہدہ میں شامل تھی کہ ان کا فیصلہ قرآن کے مطابق ہوگا جس کی انہوں نے تعمیل نہیں کی۔دوسرے حکم تو خود تمہارے اصرار کی وجہ سے مقرر کیا گیا تھا اور اب تم ہی کہتے ہو کہ میں نے حکم کیوں مقرر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جھک مارا اور ہم نے آپ سے جو کچھ کہا تھا وہ ہماری غلطی تھی۔مگر سوال یہ ہے کہ آپ نے یہ بات