نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 144 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 144

۱۲۳ ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے جب تک جماعت کا ہر شخص۔۔۔اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہرلمحہ بسر نہیں کرتا اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہوسکتا۔ہیں:۔(الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۴۶ء ص ۶) حضرت مصلح موعودؓ اس بارہ میں مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے وپس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ تم کتنے عقلمند اور مدبر ہو، اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔جب تک تمہاری عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت نہ ہوں اور تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو۔ہرگز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔پس اگر تم خدا تعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یا درکھو اس کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اٹھنا بیٹھنا کھڑا ہونا اور چلنا تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو۔بیشک میں نبی نہیں ہوں لیکن نبوت کے قدموں پر اور اس کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ہر وہ شخص جو میری اطاعت سے باہر ہوتا ہے۔وہ یقیناً نبی کی اطاعت سے باہر جاتا ہے۔جو میرا جوا اپنی گردن سے اتارتا ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جوا اتارتا ہے اور جو ان کا جوا اتارتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کا جوا اتارتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا جواً اتارتا ہے۔میں بے شک انسان ہوں۔خدا نہیں ہوں۔مگر میں یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ میری اطاعت اور فرمانبرداری میں خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔مجھے جو بات کہنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔میں