نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 142
۱۲۱ طبقات نار سے ہرگز خلاصی نہ پائے گا۔اسی طرح اگر چند عبادات اور طاعات دینیہ بجالائے اور احکام اسلام میں پوری کوشش کرتا رہے لیکن جب تک امام وقت کی اطاعت کے آگے سرتسلیم خم نہ کرے اور اس کی اطاعت کا اقرار نہ کرے، عبادت مذکورہ آخرت میں اس کے کام نہ آئے گی اور رب قدیر کی دارو گیر سے خلاصی نہ ہو سکے گی_من لم يعرف امام زمانه فقد مات ميتة الجاهلية (جس نے امام وقت کو نہ پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرا) رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے صلوا خمسكم وصوموا شهركم وادو از كودة اموالكم واطيعوا ذا امركم تدخلوا جنة ربكم ( پنج وقتی نماز ادا کرو، ایک ماہ کے روزے رکھو اور اپنے مال کی زکوۃ ادا کر واولی الامر کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ ) اور فرمایامن مات وليس في عنقف بيعة مات ميته الجاهلية (جوكوئى مرا اس کی گردن میں بیعت ( کا طوق ) نہیں تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔منصب امامت ص ۱۴۴۷۱۴۳- از شاہ اسمعیل شہید ایڈیشن دوم ۱۹۶۹ء نقوش پریس لاہور مترجم حکیم محمد حسین مالوی) اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ خلیفہ وقت کی طرف سے آنے والی ہر آواز پر والہانہ لبیک کہا جائے۔کسی ارشاد کو بھولنا یا اس کی طرف توجہ نہ دینا ایک احمدی کی شان نہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیعت وہ ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے“۔(ماہانہ الفرقان ربوہ خلافت نمبرمئی جون ۱۹۶۷ء ص ۲۸) حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: