نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 79 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 79

۵۸ کے لئے جتنی جماعت احمدیہ نے قربانیاں دکھائی ہیں دنیا کے پردے پر توحید کے لئے دی جانے والی ساری قربانیاں ایک طرف کر دیں تو اس کے مقابلہ پر ان کی کوئی اہمیت نہیں۔اس زمانہ میں توحید کے نام پر سوائے جماعت احمدیہ کے کسی کو سزا نہیں دی جارہی۔خدا کی قسم آج آپ ہی تو ہیں جو تو حید کے لئے ایسی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔پس ہم تو حید کے محض دعویدار نہیں ہیں ہم تو حید کو اپنے اعمال میں جاری کر چکے ہیں۔آج ایک ہم ہی تو ہیں جو تو حید کے نام پر ہر قسم کے ابتلاء میں مبتلا کئے گئے اور ہر ابتلاء سے ثابت قدم باہر نکلے ہیں۔اسی کا نام قدم صدق ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ جماعت احمدیہ کو قدم صدق عطا فر ما تا ر ہے“۔(روز نامہ الفضل ۲۰ نومبر ۱۹۹۳ء) یہاں ایک طرف تو شرک اور بدعت کا زور ہے۔قبر پرستی اور مردہ پرستی کو فروغ مل رہا ہے۔وہاں ایک جماعت احمد یہ ہے جو قدرت ثانیہ کے ظہور کی برکت سے اس قسم کی لغویات اور مشرکانہ خیالات و اعمال سے محفوظ ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں خاک راہ احمد مختار ہیں چنانچہ خلفاء احمدیت نے اپنے اپنے وقت میں جس رنگ میں توحید الہی کے مضمون کو جماعت احمدیہ کے افراد کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوشش کی ہے اس کا کچھ ذکر ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد قدرت ثانیہ کے پہلے مظہر حضرت الحاج حکیم مولانا نورالدین تھے۔آپ قرآن کریم کے عاشق اور صادق تھے۔چنانچہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۲ء