نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 76 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 76

۵۵ باتیں محض خدا تعالیٰ کے رسولوں کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوتی آئی ہیں۔پھر کس طرح یہ لغو خیال ہے کہ ایک شخص تو حید رکھتا ہومگر خدا تعالیٰ کے رسول پر ایمان نہیں لاتا وہ بھی نجات پائے گا۔اے عقل کے اندھے اور نادان ! تو حید بجز ذریعہ رسول کے کب حاصل ہوسکتی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۱۲۷) پس اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کرام کے ذریعہ دنیا میں اپنی وحدانیت اور یکتائی کو اس شان کے ساتھ قائم فرماتا ہے کہ شرک کا قلعہ قمع ہو جاتا ہے۔پھر جب انبیاء وعلیہم السلام اپنی طبعی زندگی گزار کر وفات پا جاتے ہیں تو یہ مقدس فریضہ ان کے خلفاء کے ذریعہ پورا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آیت استخلاف میں خلافت کی ایک برکت توحید خداوندی کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِيٍّ شَيْئًا (نور: ۵۶) یعنی وہ (صرف) میری عبادت کریں گے اور کسی کو میرا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔تو حید کے سب سے بڑے علمبردار ہمارے آقا مولیٰ خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ملتے تھے۔آپ نے تو حید کی عظمت اور فضیلت اس قدر دلوں میں بٹھا دی کہ توحید ہی دین کا مغز اور خلاصہ بن گئی۔توحید ہی کا دوسرا نام دین ہے اور توحید ہی دین کا مظہر ،شعار اور اس کی صداقت اور حقیقت ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔توحید کی عظمت دلوں میں بٹھانے کے لئے ایک بزرگ نبی ملک عرب میں گزرا ہے جس کا نام محمد اور احمد تھا۔خدا کے اس پر بیشمار سلام ہوں“۔(ضمیمہ رسالہ جہاد۔روحانی خزائن جلد۷ اص۲۷) جب آنحضرت ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ کے بعد خلفاء راشدین نے جس جوانمردی ، نور بصیرت اور عزم و ہمت کے ساتھ تو حید کے علم کو بلند کیا اور اس