نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 75 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 75

۵۴ مجھ سے پہلے خلفاء نے آئندہ آنے والے خلفاء کو حوصلہ دیا تھا اور کہا تھا کہ تم خدا پر تو کل رکھنا اور کسی مخالفت کا خوف نہیں کھانا۔میں آئندہ آنے والے خلفاء کو خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم بھی حوصلہ رکھنا اور میری طرح ہمت وصبر کے مظاہرے کرنا اور دنیا کی کسی طاقت سے خوف نہیں کھانا۔وہ خدا جواد نی مخالفتوں کو مٹانے والا خدا ہے وہ آئندہ آنے والی زیادہ قومی مخالفتوں کو بھی چکنا چور کر کے رکھ دے گا اور دنیا سے ان کے نشان مٹا دے گا۔جماعت احمدیہ نے بہر حال فتح کے بعد ایک اور فتح کی منزل میں داخل ہونا ہے۔دنیا کی کوئی طاقت اس تقدیر کو بہر حال بدل نہیں سکتی۔( خطاب حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ۲ جولائی ۱۹۸۴، بر موقع یورپین اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ) ۴ توحید کا قیام قرآن کریم میں خلافت کی چوتھی برکت توحید کا قیام بیان کی گئی ہے۔قرآن کریم سے یہ بھی ثابت ہے کہ تمام انبیاء و مرسلین و مامورین وخلفاء کی بعثت اور ظہور کا اصل مقصد تو حید کا قیام ہی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔يقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَالَكُمْ مِنْ إِلهٍ غَيْرُهُ (اعراف: ۶۱) یعنی اے میری قوم تم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔حضرت مسیح موعود نے بھی اس حقیت کو یوں بیان فرمایا ہے:۔نجات حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی ہستی پر کامل یقین پیدا کرے اور نہ صرف یقین بلکہ اطاعت کے لئے بھی کمر بستہ ہو جائے اور اس کی رضامندی کی راہوں کو شناخت کرے اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔یہ دونوں