نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 71
ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد کر لیتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے۔جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق کے وقت میں ہوا۔جبکہ آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت مجھی گئی۔اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھلایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا۔وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمُ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمُ اَمَنَّا یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے۔(الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۰۵،۳۰۴) بعینہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو خلافت کی برکت کا نظارہ دکھایا۔اور حضرت حافظ حکیم مولانا نورالدین صاحب بھیروی کو حضرت مسیح موعود کا جانشین اور خلیفہ بنا کر جماعت کو ایک دفعہ پھر ایک ہاتھ پر جمع کر کے ان کے خوف کی حالت کو امن میں تبدیل کر دیا۔پھر یہ تاریخ ہر خلافت کے انتخاب پر دہرائی جاتی رہی۔جماعت احمدیہ کی گزشتہ سوسالہ تاریخ گواہ ہے کہ جماعت احمدیہ پر جب کبھی بھی خوف کا وقت آیا اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کا آسمان سے نزول ہوا۔جنہوں نے اپنے مومن بندوں کو ہمت اور قوت اور طاقت بخشی جس کے نتیجہ میں ان کا خوف نہ صرف امن میں بدل گیا بلکہ مزید ترقیات کا پیش خیمہ بنا۔۱۹۳۴ء میں مجلس احرار نے جماعت احمدیہ کو صفحہ ہستی سے مٹادینے اور قادیان کی