نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 445
۴۲۴ کیا عام احمدی سب نے بالا تفاق بغیر تر ددو انکار کے بلکہ اصرار اور الحاح سے حضرت مولوی صاحب کو خلیفہ تسلیم کیا اور عاجزانہ طور سے آپ سے خلیفہ ہونے کی درخواست کی جس سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے اور یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ جمہوریت کے فیصلہ کے مطابق بھی خلافت ثابت ہے کیونکہ جمہور نے خود خلافت کا اقرار کیا پس اگر جمہوریت بھی ثابت ہو جائے تب بھی انجمن نے بغیر کسی ممبر کے انکار کے خلافت کو قبول کر لیا ہے اور اس طرح بھی جمہوریت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔نظام خلافت پر اجماع سلسلہ احمدیہ کا لٹریچر شاہد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد سب سے پہلا اجماع قدرت ثانیہ یعنی نظام خلافت ہی پر ہوا اور الوصیۃ کے مطابق ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مولانا نورالدین بھیروی رضی اللہ عنہ خلیفہ اول منتخب ہوئے۔اس موقعہ پر حضرت مولانا نورالدین کی خدمت میں ایک درخواست پیش کی گئی جس پر جناب مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور دوسرے بہت سے عمائد انجمن کے دستخط ثبت تھے۔اس درخواست میں یہ لکھا تھا کہ:۔اما بعد مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المہاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نور الدین صاحب جو ہم سب میں اعلم اور اتقی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہے اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اسوۂ حسنہ قرار فرما چکے ہیں جیسا کہ آپ کے شعر