نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 350 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 350

۳۲۹ تربیت کے لئے تو پہلے سے ہی غانا مغربی افریقہ میں ایک جامعہ احمدیہ قائم تھا۔مگر دیگر براعظموں اور ممالک کے لئے مقامی طور پر جامعہ احمدیہ کی ذیلی شاخیں کھولنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔چنانچہ اس صورتحال کے پیش نظر پہلے انڈونیشیا میں ایک جامعہ احمد یہ جاری کیا گیا جس سے مشرق بعید کی ضرورت کو پورا کیا گیا اس کے بعد ے ستمبر ۲۰۰۳ء کو کینیڈا میں بھی جامعہ احمد یہ جاری کر دیا گیا۔جس سے براعظم امریکہ کی ضرورت پوری ہوگئی۔اب یورپ کے واقفین نو اور واقفین زندگی کے لئے یورپ کے کسی ملک میں جامعہ احمدیہ کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا۔چنانچہ یکم دسمبر ۲۰۰۵ء کولندن میں بھی جامعہ احمدیہ کا قیام عمل میں آ گیا۔اس طرح اہل یورپ کی ضرورت کو بھی پورا کرنے کا بندو بست کر دیا گیا۔جامعہ احمدیہ لندن کے پہلے سال میں یورپ کے مختلف ممالک کے ۲۹ طلباء کو داخلہ دیا گیا اور اس طرح لندن میں جامعہ احمدیہ کا آغا ز خلافت خامسہ کے عظیم ثمرات میں سے ایک بہت بڑا ثمر ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔غانا میں مدرسۃ الحفظ کا اجراء جامعہ احمدیہ کی طرح بھارت اور پاکستان کے علاوہ دیگر براعظموں اور ممالک میں بھی مدرسہ الحفظ کی ضرورت محسوس کی گئی۔چنانچہ قادیان اور ربوہ پاکستان کے علاوہ تیسرا مدرسة الحفظ مورخ ۲۰۰۴ء کو غانا میں بھی مدرستہ الحفظ کا قیام عمل میں آیا۔جس کا افتتاح خود حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ا۔اپنے دورہ غانا کے دوران فرمایا۔اس طرح براعظم افریقہ کے بچوں کے لئے قرآن کریم حفظ کرنے کی سہولت افریقہ میں ہی پوری کر دی گئی۔یہ بھی خلافت خامسہ کا ایک شیریں ثمر ہے۔