نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 306
۲۸۵ کہ حضرت مسیح موعود کے کپڑوں سے میں برکت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے حضرت مسیح موعود کا کوئی کپڑا تبرک کے طور پر مجھے عنایت فرمائیں۔چنانچہ حضور نے ربوہ سے وہ کپڑا انہیں بھجوا دیا جسے پا کر وہ بہت خوش ہوئے۔اس طرح خلافت ثالثہ میں پہلی بار حضرت مسیح موعود کا یہ الہام پورا ہو گیا کہ:۔”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے۔کوئی فرد بھوکا نہ رہے حضور نے یہ بھی تحریک فرمائی ہے کہ ہر جگہ اور ہر مقام پر ایسا انتظام کیا جائے کہ جماعت کا کوئی فرد کبھی بھوکا نہ رہے اور جماعت کے تمام افراد ہر قسم کی غیر اسلامی رسموں سے بچیں۔حضور کی یہ تحریک بھی جماعت میں کامیاب ہو رہی ہے۔الحمد للہ ! سفر یورپ اور کوپن ہیگن میں بیت کا افتتاح حضور نے ۱۹۶۷ء میں یورپ کا جو سفر اختیار فرمایا وہ بھی اللہ تعالیٰ کی پہلے سے دی گئی بشارت کے مطابق بہت ہی اہم اور بابرکت ثابت ہوا۔اس سفر کے دوران اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید و نصرت کے نظارے ہمیں نظر آئے۔حضور 4 جولائی ۱۹۶۷ء کو اس سفر کے لئے ربوہ سے روانہ ہوئے اور ۲۴ را گست ۱۹۶۷ء کو واپس ربوہ تشریف لائے۔اس سفر میں حضور مغربی جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ، ڈنمارک اور انگلستان میں تشریف لے گئے۔ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں حضور نے اس ملک کی پہلی بیت الذکر کا افتتاح فرمایا جو کہ احمدی عورتوں کے چندہ سے تعمیر ہوئی ہے۔ہر جگہ حضور نے پریس کانفرنسوں اور تقریروں کے ذریعہ سے اہل یورپ تک دین حق کا پیغام احسن طریق سے پہنچایا اور انہیں تنبیہ فرمائی کہ ہلاکت اور تباہی سے بچنے کا اب صرف یہی