نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 298
۲۷۷ سلامتیاں ہوں۔تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسد مبارک پر خدا تعالیٰ سے جو عہد باندھا تھاس کو خوب نبھایا۔تو نے خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کی خاطر نہ اپنی جان کی پرواہ کی، نہ مال کی ، نہ عزت کی ، نہ اولاد کی ، خدا کی خاطر تیرا خون بھی بہایا گیا۔تو مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِن کا زندہ نمونہ تھا تو نے زندہ خدا ہمیں دکھایا۔تو اللہ تعالیٰ کی قدرت ، رحمت اور قربت کا نشان تھا، تیرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت جلوہ نما ہوئی اور دنیا نے رحمت اور قربت سے حصہ پایا، تو نے قبروں میں دبے ہوؤں کو نکال کر ان کو روحانی موت کے پنجہ سے نجات دی۔تیرے آنے کے ساتھ حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آیا اور باطل اپنی نحوستوں کے ساتھ بھاگ گیا۔تو نے اسلام کی عزت قائم کی، تیری ایڑیوں نے شیطان کا سر کچلا تو کامیاب و کامران اپنے خدا کے سایہ میں زندگی گزار کر اپنے محبوب حقیقی کی خدمت میں حاضر ہو گیا لیکن ہمیں سوگوار بنا کر تیرے ہی الفاظ میں ہم تجھ سے کہتے ہیں:۔جانتا ہوں صبر کرنا ہے ثواب اس دل نادان کو سمجھائے کون الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ء ص اتا۷