نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 259
۲۳۸ پڑھنے کے ساتھ ہی ہر طرف سے لوگوں کی آواز میں ” حضرت میاں صاحب ، حضرت میاں صاحب ( مراد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی) بلند ہونے لگیں۔حضرت مسیح موعود کے پرانے صحابی حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی نے کھڑے ہو کر تقریر کی۔آپ نے خلافت کی ضرورت واضح کرنے کے بعد فرمایا کہ میری رائے میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہر طرح سے خلیفہ اسیح بننے کے اہل ہیں۔اس لئے ہمیں ان کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے۔اس کی ہر طرف تائید کی گئی اور لوگوں نے اصرار کرنا شروع کیا کہ ہماری بیعت لی جائے۔مولوی محمد علی صاحب نے جو منکرین خلافت کے لیڈر تھے، کچھ کہنا چاہا لیکن لوگوں نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ جب آپ خلافت ہی کے منکر ہیں تو ہم کس طرح آپ کی بات سننے کے لئے تیار ہوں؟ لوگ چاروں طرف سے ٹوٹے پڑتے تھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا خدا کے فرشتے لوگوں کو پکڑ پکڑ کے بیعت کے لئے تیار کر رہے ہیں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے کچھ تامل کیا مگر آخر لوگوں کے اصرار پر حضور نے بیعت لینی شروع کر دی۔جولوگ قریب نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنی پگڑیاں پھیلا کر اور ایک دوسرے کی پیٹھوں پر ہاتھ رکھ کر بیعت کے الفاظ دہرائے۔بیعت کے بعد لمبی دعا ہوئی جس میں سب پر رقت طاری تھی۔دعا کے بعد حضور نے درد سے بھری ہوئی تقریر فرمائی۔جس میں آپ نے فرمایا کہ گو میں بہت ہی کمزور انسان ہوں مگر خدا تعالیٰ نے مجھے پر جو ذمہ داری ڈال دی ہے مجھے یقین ہے کہ خدا اس کے ادا کرنے کی توفیق مجھے عطا فرمائے گا۔آپ سب لوگ متحد ہو کر اسلام اور احمدیت کی ترقی کی کوشش میں میری مدد کریں۔