نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 222
۲۰۱ قواعد میں ترمیم فرمائی اور اپنی ہدایات کی روشنی میں علماء سلسلہ کی ایک کمیٹی مقرر کر کے از سرنو انتخاب خلافت کے قواعد وضع کروائے۔جنہیں مجلس شوری میں ریزولیشن کی صورت میں پیش کر کے ممبران شوری کی تائید حاصل کی گئی۔یہ ریزولیوشن حسب ذیل ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم انتخاب خلافت کے متعلق ایک ضروری ریزولیوشن تمہید :۔سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانه ۱۹۵۶ء کے موقعہ پر آئندہ خلافت کے انتخاب کے متعلق یہ بیان فرمایا تھا کہ پہلے یہ قانون تھا کہ مجلس شوری کے ممبران جمع ہو کر خلافت کا انتخاب کریں۔لیکن آجکل کے فتنہ کے حالات نے ادھر توجہ دلائی ہے کہ تمام ممبران شوری کا جمع ہونا بڑا لمبا کام ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھا کر منافق کوئی فتنہ کھڑا کر دیں۔اس لئے اب میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ جو اسلامی شریعت کے عین مطابق ہے کہ آئندہ خلافت کے انتخاب میں مجلس شوری کے جملہ ممبران کی بجائے صرف ناظران صدر انجمن احمدیہ، ممبران صدر انجمن احمدیہ، وکلاء تحریک جدید، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زندہ افراد ( جن کی تعداد اس غرض کے لئے اس وقت تین ہے۔یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب میاں عبد اللہ خان صاحب) جامعتہ المبشرین کا پرنسپل، جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی سلسلہ احمد بیل کر فیصلہ کیا کریں۔