نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 206 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 206

۱۸۵ بنا گئے۔ابراہیم کے زمانہ میں بنوعباس کی تحریک بڑے زور سے چلی اور ابومسلم خراسانی کی مدد نے بنوامیہ کے زوال کو چند سالوں میں حقیقت کا جامہ پہنا دیا۔چنانچہ ربیع الاول ۱۳۲ھ میں بنو عباس کے پہلے حکمران ابو العباس نے کوفہ میں اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔اسی سال بوحیر کی فتح نے بنوامیہ کی حکومت کا خاتمہ کر دیا اور بنو عباس کی حکومت کا آغاز ہوا۔بنوعباس کی حکومت ۱۳۲ھ سے ۶ ۶۵ ھ تک قائم رہی۔اس مدت در از کوتین مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔پہلا دور ۱۳۲ھ سے ۲۴۷ ھ تک اس میں بنی عباس کے پہلے دس خلفاء کا عہد شامل ہے۔یہ فرمانروا غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک اور اعلیٰ پایہ کے مدبر تھے۔اس دور میں تہذیب و تمدن اور علوم وفنون کو بہت ترقی ہوئی۔یہ بنو عباس کے عروج کا زمانہ تھا۔دوسرا دور ۲۴۷ء سے شروع ہو کر قریباً دو سوسال تک جاری رہا۔یہ انحطاط کا دور ہے۔اس میں خلفاء بالعموم کمزور رہے اور سلطنت کا سارا کاروبار امیر الامراء کی مرضی و منشاء کے مطابق ہوتا تھا۔تیسرا دور سلجوقی غلبہ کا دور تھا۔اس زمانہ میں خلیفہ کی حیثیت محض برائے نام تھی۔زمام اقتدار کلیۂ سلجوقی ترکوں کے ہاتھوں میں تھی۔آخر ۶ ۶۵ ھ میں چنگیز خاں کا پوتا ہلا کو خاں بغداد میں داخل ہوا اور آخری خلیفہ مستعصم باللہ کوقتل کر کے بنوعباس کی حکومت کاس نے ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔(اردو جامع انسائیکلو پیڈیا ص ۳۳۲- از عبدالوحید ) خلافت عثمانیه ترکیه خلافت عثمانیہ ترکیہ کی بنیاد ۹۲۲ھ بمطابق ۱۲۹۹ ء میں پڑی۔سلطنت عثمانیہ ترکیہ کی بنیادرکھنے کا کریڈت سلطان عثمان بے Sultan Usman Bay) کو جاتا ہے جو ا ۱۲۸ء میں اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کا جانشین بنا۔۱۲۹۳ء میں چنگیز