نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 107
۸۶ ہے۔اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں:۔جب تک تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو ہرگز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔پس اگر تم خدا تعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو یاد رکھو اس کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اٹھنا، بیٹھنا، کھڑا ہونا اور چلنا اور تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو“۔(الفضل ۴ ستمبر ۱۹۲۷ء) اسی طرح ایک دوسرے موقع پر حضور فرماتے ہیں:۔خلیفہ استاد ہے اور جماعت کا ہر فردشاگرد۔جو لفظ بھی خلیفہ کے منہ سے نکلے وہ عمل کئے بغیر نہیں چھوڑ نا“۔(الفض ۲ مارچ ۱۹۴۶ ص۳) ۶ نظام خلافت کی حفاظت کرنا نظام خلافت کے سلسلہ میں ہماری ایک ذمہ داری نظام خلافت کی حفاظت ہے یہی وجہ ہے کہ مجلس انصاراللہ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ اور اطفال الاحمدیہ جیسی ذیلی تنظیموں کے عہد میں خلافت کی حفاظت کو شامل کیا گیا ہے اور قیامت تک یہ عہد دہرانے کی تاکید اور ہدایت دی گئی ہے۔۷ نظام خلافت اور عہدیدران کی ذمہ داری جماعتی عہدیدران کے کندھوں پر عام افراد جماعت کی نسبت بہت زیادہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔خصوصیت سے عہدیداران کو مخاطب کرتے ہوئے حضور انور نے اپنے ایک تازہ ترین خطبہ جمعہ میں فرمایا: جو جماعتی نظام میں عہدیداران ہیں وہ صرف عہدے کے لئے عہد یدار نہیں ہیں بلکہ خدمت کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔وہ نظام جماعت ، جو نظام خلافت کا ایک