نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 87 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 87

۶۶ ۵۔وحدت قومی خلافت کی ایک بہت بڑی برکت وحدت قومی کی برکت ہے۔کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس میں اتفاق، اتحاد اور وحدت نہ ہو۔وحدت قومی کے تعلق میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ اَعْدَاءُ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا۔(آل عمران: ۱۰۴) ترجمہ:۔” تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور پراگندہ مت ہو اور اللہ کا احسان جو اس نے تم پر کیا ہے یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کی جس کے نتیجہ میں تم اس کے احسان سے بھائی بھائی بن گئے“۔اس طرح آگے چل کر فرمایا:۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ هُمُ الْبَيِّنْتُ وَأُوْلَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔(آل عمران: ١٠٦) ترجمہ:۔تم ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو کھلے کھلے نشانات آچکنے کے بعد پراگندہ ہو گئے اور انہوں نے باہم اختلاف پیدا کرلیا۔حضرت خلیفہ اسیح الاول نے بیعت لینے سے قبل فرمایا:۔موجودہ حالت میں سوچ لو کیسا وقت ہے جو ہم پر آیا ہے۔اس وقت مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے ضروری ہے کہ وحدت کے نیچے ہوں۔اس وحدت کے لئے ان بزرگوں ( آپ نے بعض بزرگوں کے نام گنوائے ) میں سے کسی کی بیعت