نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 86
دنیا میں قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ محض تلقین سے قائم نہیں ہو سکتی بلکہ اس سلسلے میں با قاعدہ منصوبہ بندی ہونی چاہئے“۔(روز نامہ الفضل ۲ستمبر ۱۹۹۳ء) حضور نے حضرت مسیح موعود کے ایک الہام کی روشنی میں جماعت سے مخاطب ہو کر خطبہ جمعہ میں ۲۰ راگست ۱۹۹۳ء کو فر مایا:۔چونکہ تو حید کا مضمون چل رہا ہے اس لئے میں حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کو ملنے والی ایک خدائی خبر کے الفاظ میں ان تمام مجالس کو اور دنیا کی تمام جماعتوں کو پیغام دیتا ہوں کہ اے ابنائے فارس! تو حید کو مضبوطی سے پکڑ لو۔خبر دار، تو حید کو مضبوطی سے پکڑ لو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں خوشخبری دو کہ خدا کی نگاہ میں ان کا قدم سچائی پر پڑرہا ہے۔ان کے رب کی نظر میں ان کا قدم سچائی پر پڑ رہا ہے۔ان دونوں جملوں کا تعلق دراصل توحید اور اس کے لازمی نتیجہ سے ہے۔یہاں ابنائے فارس کو یہ ارشاد فرمایا گیا لیکن ابنائے فارس میں روحانی ابنائے فارس لازماً داخل ہیں کیونکہ ابنائے فارس کا مضمون ہی روحانی تعلق سے شروع ہوتا ہے۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اہل بیت قرار دیا گویا کہ ان کی ذات کا ایک اور روحانی تعلق ہے جسے اہل بیت کے تعلق میں تبدیل کر کے ظاہر فرمایا ہے۔(روزنامه الفضل ۲۰ نومبر ۱۹۹۳ء) پس حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے توحید کے مضمون میں نکھار پیدا کردیا اور جماعت کے ہر فرد کو اس یقین محکم پر قائم کر دیا کہ اس کا خالق و مالک اس کا مرجع و ماویٰ اس کا معبود حقیقی اور اس کا حاجت روا مشکل کشا صرف اور صرف ایک ہی خدا ہے جو اس کا خدا ہے۔یہ ایک ایسی برکت اور نعمت ہے جو اس وقت صرف اور صرف جماعت احمدیہ کو حاصل ہے۔خدا تعالیٰ اس نعمت کو تا قیامت جماعت احمدیہ میں قائم و دائم رکھے۔آمین