نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 78
۵۷ لوٹ جاؤ گے؟ اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جائے وہ اللہ کا ہرگز کچھ نقصان نہیں کر سکتا اور اللہ شکر گزاروں کو ضرور بدلہ دے گا۔(آل عمران:۱۴۵) اس پر حضرت عمر فاروق اور باقی صحابہ کرام کو یقین ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ فوت ہو گئے ہیں اور زندہ جاودانی صرف ایک ہی ذات ہے اور اللہ تعالیٰ ہے۔باقی سب مخلوق فنا ہونے والی ہے۔پس آنحضرت ﷺ کے بعد یہ خلافت ہی تھی جس نے توحید کا نعرہ اس رنگ میں بلند کیا کہ حضرت عمر فاروق جیسے بہادر وجری انسان کو بھی اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑا۔حضرت مسیح موعود کے بعد خدا تعالیٰ نے خلافت علی منہاج نبوت کے نظام کو قدرت ثانیہ کی شکل میں قائم فرمایا ہے۔چنانچہ حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کے خلفاء نے اس ارشاد خداوندی کو جس رنگ میں پورا فرمایا ہے اور جماعت احمدیہ کے افراد کے ذہن میں خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی وحدانیت کو اس انداز میں ذہن نشین کرا دیا ہے کہ اس کی برکت سے آج خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا ہر فرد اس یقین محکم پر قائم ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت، دنیا کا کوئی حاکم ، دنیا کا کوئی جابر اس جماعت کو مٹا نہیں سکتا اور وہ نہ صرف خود تو حید کامل پر یقین رکھتے ہیں بلکہ اکناف عالم میں آج وہی تو حید خالص کے علمبر دار ہیں اور اس کے قیام کے لئے تن من دھن کی قربانی پیش کر رہے ہیں۔۲ راگست ۱۹۹۳ء کو اس حقیقت کا اظہار حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے:۔میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ نے جب توحید کا پیغام دنیا میں پہنچانا ہے تو یا درکھیں کہ اس راہ میں تکلیفیں دی جائیں گی۔میں جانتا ہوں کہ اس زمانے میں توحید