نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 74
۵۳ آمر جس نے کہا تھا کہ میری کرسی بہت مضبوط ہے اور میں احمدیوں کے ہاتھ میں کشکول پکڑا کر رہوں گا، کہاں ہے وہ آمر جس نے فرعون کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کہا تھا کہ میں احمدیت کے کینسر کو مٹا کر دم لوں گا۔دیکھو ہمارے خدا نے ان دشمنان اسلام کے نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیئے۔مردان حق ، خلفائے احمدیت کی دعاؤں نے نمرودیت کو کچل کر رکھ دیا۔کوئی تختہ دار پر نظر آیا، تو کسی کے جسم کے ذرات خاک کا ڈھیر بن کر صحراؤں میں بکھر گئے ! کوئی سننے والا ہو تو سنے کہ احمدیت کے مخالفین کا یہ مقدر ہر دور میں رہا ہے اور مستقبل میں بھی ان کی تقدیر اس سے کچھ مختلف نہیں۔خلافت کی برکت سے اور خلافت کے زیر سایہ جماعت احمدیہ کے لئے ایک فتح کے بعد دوسری فتح منتظر ہے اور ہمارے مخالفین کے نصیب میں نا کا می اور پھر نا کا می اور پھر نا کا می لکھی جاچکی ہے۔سنو! کہ وہ جو خدا کی تائید سے بولتا ہے، وہ جس کے سر پر خدا کا سایہ ہے، وہ جسے خدا نے اس زمانہ میں کشتی اسلام کا محافظ اور مومنوں کا راہنما مقررفرما دیا ہے۔سنو اور توجہ سے سنو کہ وہ کیا فرماتا ہے۔ہمارے پیارے امام حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔آئندہ بھی مخالفت ضرور ہوگی اس سے کوئی انکار نہیں کیونکہ جماعت کی تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ مشکل راستوں سے گزرے اور ترقیات کے بعد نئی ترقیات کی منازل میں داخل ہو۔یہ مشکلات ہی ہیں جو جماعت کی زندگی کا سامان مہیا کرتی ہیں۔اس مخالفت کے بعد جو وسیع پیمانے پر اگلی مخالفت مجھے نظر آ رہی ہے وہ ایک دوحکومتوں کا قصہ نہیں اس میں بڑی بڑی حکومتیں مل کر جماعت کو مٹانے کی سازشیں کریں گی اور جتنی بڑی سازشیں ہوں گی اتنی ہی بڑی ناکامی ان کے مقدر میں بھی لکھ دی جائے گی۔