نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 73 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 73

۵۲ تھا۔ہمارے امام حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اعلان فرمایا کہ:۔احمدیت خدا کی قائم کی ہوئی ہے۔اگر یہ لوگ جیت گئے تو ہم جھوٹے ہیں لیکن اگر ہم بچے ہیں تو یہ لوگ ہاریں گے۔(الفضل ۱۵ فروری ۱۹۵۳ء) چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ یہ فتنہ بھی نا کام ہو گیا۔اور خود فتنہ پھیلانے والے ذلیل ہو گئے۔اور پشت پناہی کرنے والی پنجاب حکومت ختم کر دی گئی حتی کہ مرکز میں خواجہ ناظم الدین کی حکومت بھی ختم ہوگئی۔اس طرح ایک دنیا نے دیکھ لیا کہ واقعی خدا تعالیٰ نے معجزانہ رنگ میں جماعت کی مدد کی اور جولوگ جماعت احمدیہ کو شکست دینے کا زعم لے کر نکلے تھے وہ ناکام و نامراد رہے۔اور احمدیت کی فتح ہوئی۔خلافت ثالثہ کے دور میں ۱۹۷۴ء کے ہنگاموں میں مخالفین نے ایک بار پھر سر توڑ کوشش کی کہ جماعت کو ختم کر سکیں لیکن ہمیشہ کی طرح ناکام و نامراد رہے۔کئی خوش قسمت احمدیوں کے سرتن سے جدا کر دیئے گئے ان کی جائیدادیں لوٹ لی گئیں، ان کے گھر جلا دیئے گئے لیکن کوئی ان کے چہرے سے مسکراہٹ نہ چھین سکا۔خلافت رابعہ کا آغاز ہوا تو خلیفہ وقت کی مقناطیسی شخصیت اور برق رفتاری کو دیکھ کر مخالفین احمدیت کے اوسان خطا ہو گئے اور انہوں نے مخالفانہ کوششوں کو نقطہ عروج تک پہنچا دیا اور ۱۹۸۴ء میں رسوائے زمانہ سیاہ قانون جاری کر کے احمدیت کی ترقی کا راستہ بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔یہ ضرور ہوا کہ چند پاکبازوں نے شہادت کا جام پیا اور متعدد اسیران راہ مولا آج بھی کال کوٹھڑیوں کو بقعہ نور بنائے ہوئے ہیں لیکن خدا گواہ ہے کہ احمدیت کی ترقی پذیر دنیا پر طلوع ہونے والا سورج ہر روز مخالفین کی کوششوں پر نا کامی کی مہریں لگاتا ہے اور وہ جو احمدیت کو مٹا دینے کا زعم لے کر زبانیں دراز کر رہے تھے خدائے قادر و توانا نے ان کے پر خچے اڑا کر رکھ دیئے! کہاں ہے وہ