نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 72 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 72

۵۱ اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے نعرے لگائے اور دھمکیاں دیں۔ان کی پشت پناہی پر خود حکومت بھی تھی مگر اس کے باوجود جماعت اس کربناک ابتلاء سے صحیح سلامت اور پہلے سے بھی بڑھ کر عزم و ہمت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئی۔اس موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے تحریک جدید جیسی با برکت تحریک جاری کر کے جماعت احمدیہ کے مبلغین کو غیر ممالک میں بھجوا دیا۔اس طرح جماعت احمدیہ کو دنیا کے کناروں تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے کا موقع ملا۔یہ محض تحریک احرار کا نتیجہ اور پھل تھا۔۱۹۳۴ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے اعلان فرمایا کہ:۔زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں سے نکل رہی ہے۔اور میں ان کی شکست کو ان کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں“۔(اخبار فاروق ۲۱ نومبر ۱۹۳۴ء) اس اعلان کے بعد جلد ہی خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ احراری مسلمانوں میں بدنام ہو گئے۔ان کا جھوٹا ہونا سب پر ظاہر ہو گیا۔اس طرح بجائے احمدیت کے مثانے کے وہ خود تباہ ہو گئے اور اس طرح خدا کے محبوب بندے کی بات پوری ہوئی۔الحمد للہ علی ذالک۔۱۹۵۳ء میں ایک دفعہ پھر احرار ختم نبوت کا روپ دھار کر جماعت کو نیست و نابود کرنے کا عزم لے کر جماعت احمدیہ کے بالمقابل کھڑے ہو گئے۔اس دفعہ انہوں نے۱۹۳۴ء سے بھی زیادہ خطر ناک حالات پیدا کر دئیے۔اور پنجاب کی حکومت بھی ان کی پشت پناہی کر رہی تھی۔احمدیت کے خلاف سارے ملک میں جلسے وجلوس نکال کر احمدیت کے خلاف نفرت کی ایک آگ بھڑ کا دی۔جس پر سول حکومت کے لئے قابو پانا مشکل ہو گیا۔حتیٰ کہ مارشل لاء لگانا پڑا۔غرض احمدیت کے لئے انتہائی خطرناک حالات پیدا کر دیئے گئے۔مگر عین اسی زمانہ میں جبکہ یہ فتنہ انتہائی زوروں پر