نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 56
۳۵ کیا عوام کی تحریک سے خلافت بن سکتی ہے؟ گزشتہ صفحات میں ” خلافت کی ضرورت واہمیت“ کے عنوان کے تحت ایسی متعدد مثالیں پیش کی جاچکی ہیں جن میں خلافت کے قیام کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا اور اس سلسلہ میں ”حزب التحریر جیسی متعدد تحریکات کوشاں ہیں کہ امت مسلمہ میں وحدت پیدا کرنے کے لئے کسی طرح نظام خلافت کو جاری کیا جائے۔مگر سوال یہ ہے کہ ” کیا عوام کی تحریک سے خلافت بن سکتی ہے؟ سیدنا حضرت خلیفہ اصیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اردو بولنے والے احباب کی ملاقات کا پروگرام ۹ جون ۱۹۹۵ء کونشر ہوا اور حضوررحمہ اللہ نے ” کیا عوام کی تحریک سے خلافت بن سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:۔عوام کی خلافت تو جمہوریت ہے اور وہ چل رہی ہے۔اللہ اپنا خلیفہ خود بناتا ہے اور تیسری خلافت وہ ہے جو خدا کے خلیفہ کا خلیفہ ہوتا ہے۔چنانچہ تمام انبیاء کی خلافت کا خدا نے خود انتظام کیا جو خلیفہ اللہ کے بعد ہوتا ہے۔نبی کے وصال کے بعد خلافت کا قیام خدا تعالی کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے علاوہ اور شرائط کے خلافت پر ایمان رکھنا بھی ایک شرط ہے۔حضور نے آیت استخلاف کے حوالے سے فرمایا کہ یہ بہت خوبصورت مضمون ہے کہ خدا سے خلافت پانے کے لئے اچھے اعمال کرنے پڑیں گے اور تمہارے اندر سے خلیفہ بنائے گا جیسے آنحضرت ﷺ کے بعد خدا نے خلافت جاری فرمائی۔وہ خلافت جو خدا کی طرف سے قائم ہوتی ہے وہ دین کی تمکنت کو قائم کرتی ہے۔یہ خلافت حقہ کی