نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 460
۴۳۹ لہریں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح موجزن ہے۔ایکسل سنٹر لندن کے دل میں واقع ہے۔یہاں بڑے پیمانے پر عالمی کانفرنسیں اور نمائشیں منعقد کی جاتی ہیں۔اس سنٹر کے ایک طرف خوبصورت دریائے ٹیمز بہتا ہے اور دوسری طرف صرف 500 گز کے فاصلے پر ایئر پورٹ کا رن وے ہے جہاں سے بسہولت ہوائی جہاز اڑتے اور اتر تے نظر آتے ہیں۔ایکسل سنٹر کی یہ خوبی بھی ہے کہ اس کے ہالز (Halls) میں بنائی گئی دیواروں کو آسانی سے اپنی جگہ سے ہلایا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے تقریب کے مناسب حال جگہ بن جاتی ہے اور پھر ان بڑے بڑے ہالز میں کوئی ستون نہیں ہے۔بلکہ اس بلڈنگ کی بناوٹ ایسی ہے کہ چھتوں کو سہارا دینے والے ستون نظر نہیں آتے جس کی وجہ سے تقریب کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔اس تقریب کو کور (Cover) کرنے کے لئے اس عمارت کی دوسری منزل پر ایم ٹی اے انٹر نیشنل کا مرکزی سٹوڈیو بنایا گیا تھا۔سید نا حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پاکستانی وقت کے مطابق سوا تین بجے بعد دو پہر ایکسل سنٹر میں رونق افروز ہوئے اور اس سنٹر کو برکت بخشی۔حضور انور کا استقبال نعرہ ہائے تکبیر اور بچوں اور بچیوں کی طرف سے ترانوں سے ہوا۔دنیا بھر میں عالمی کانفرنسوں اور نمائشوں کی وجہ سے معروف یہ سنٹر اس دن غیر معمولی تاریخی حیثیت حاصل کر گیا جب جماعت احمد یہ عالمگیر نے اپنی خلافت کی پہلی صدی کا جلسہ شایان شان طریق پر منایا۔جس کی کارروائی میں دنیا میں بسنے والے کروڑوں احمدی براہ راست شریک ہوئے بلکہ دنیا کے تین ممالک کے Live