نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 444 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 444

۴۲۳ وہ خلیفہ میری مرضی کے مطابق ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو اس کی نسبت خلفائم لکھا ہے یعنی مسیح موعود کے خلیفوں میں سے ایک خلیفہ۔پس اگر وہ غاصب یا ظالم ہوگا جو جمہوریت کا حق دبا کر خلیفہ بن جائے گا تو اس کا نام آپ اپنا خلیفہ نہ رکھتے بلکہ فرماتے کہ اس کی امت میں سے ایک جابر بادشاہ۔دوسرے یہ کہ آپ نے اس خلیفہ کو ایک ایسی پیشگوئی کا پورا کرنے والا بتایا ہے جو خود آپ کی نسبت ہے اور فرمایا کہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا مسیح موعود اس پیشگوئی کو پورا کرے گا یا اس کا خلیفہ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ خلیفہ اس کا سچا جانشین ہوگا ورنہ وہ مسیح موعود کا قائم مقام ہو کر ایسی پیش گوئی کو پورا کرنے والا کیونکر ہوسکتا ہے۔حضرت صاحب کی دوسری شہادت خلافت کے متعلق آپ کا یہ الہام ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اس الہام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب کے بعد جمہوریت کا ہونا ضروری نہیں بلکہ آپ کی جماعت میں بادشاہ ہوں گے اور یہی زبر دست اور طاقتور ہوں گے کیونکہ اگر آپ کے بعد پارلیمنوں کی حکومت تھی اور بادشاہت آپ کے اصول کے خلاف تھی تو الہام بدیں الفاظ ہونا چاہئے تھا۔پارلیمنٹیں تیرے دین پر چلیں گی‘بادشاہوں کے نام سے معلوم ہوتا ہے۔جمہوریت سے بھی خلافت ثابت ہے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ انجمن کا ہی فتویٰ درست اور صحیح ہے پھر بھی خلافت ثابت ہے کیونکہ حضرت صاحب کی وفات کے بعد کل احمدی جماعت کا پہلا اجماع خلافت کے مسئلہ پر ہی ہوا تھا اور کیا غریب اور کیا امیر کیا صدرانجمن احمدیہ کے ممبر اور