نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 438 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 438

۴۱۷ بعث فی الامین رسولا مهم يتلوا عليهم ايله ويزكيهم و يعلمهم الكتب والحكمة ط وان كانوا من قبل لفى ضلال مبين وآخرين منهم لما يلحقوا بهم (سوره (جمعه) سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح نبی کریم صلى الله کے بعد خلافت ہوئی۔اسی طرح مسیح موعود کے بعد ہوگی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا صلى الله ہے کہ مسلمانوں کی تربیت رسول کریم و دو وقت کریں گے۔ایک ابتداء اسلام میں۔ایک آخری زمانہ میں۔پس مسیح موعود کے کام کو ان کے کام سے مشابہت دے کر اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ آخری زمانہ بھی اول زمانہ کے مشابہ ہوگا۔پس ضرور ہے الله کہ آج بھی اسی طرح خلافت ہو جس طرح رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں تھی۔اسی طرح قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وشاورهم في الامر فاذا عزمت فتوكل على الله (آل عمران رکوع ۱۷) یعنی تو معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ لے لیا کر۔لیکن جب تو عزم اور ارادہ مصم کرلے تو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اپنے عزم و منشا کے مطابق کام کر۔اس آیت میں بھی خلافت کا مسئلہ صاف کر دیا گیا ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ آیت میری امت پر ایک رحمت ہے اور جو اس پر عمل کر کے مشورہ سے کام کرے گا وہ کامیاب ہوگا۔اور جو بلا مشورہ کام کرے گا وہ ہلاک ہوگا اور اس طرح آنحضرت میا نے بتا دیا ہے کہ یہ آیت آپ کے ساتھ مخصوص نہیں۔بلکہ آپ کے بعد بھی اس پر عملدرآمد جاری رہے گا۔پس شاور کے لفظ سے جس میں ایک آدمی کو مخاطب کیا گیا ہے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ے کے بعد صرف ایک شخص خلیفہ ہوگا اور وہ لوگوں سے مشورہ لینے کے بعد جو بات خدا اس کے دل میں ڈالے اس پر عمل ہوگا اور لوگوں کے مشورہ پر چلنے کا پابند نہیں ہوگا۔کیونکہ دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ یہ آیت اصل میں آپ کے بعد کے حکام کے