نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 433 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 433

۴۱۲ نہ کہ خلافت ملوکیت ہے۔سوال نمبر ۲:۔جماعت احمدیہ کی خلافت پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلیفہ وقت کے لئے بادشاہ ہونا ضروری ہے۔اس کی قرآن کریم سے دلیل یہ دی جاتی ہے که آیت استخلاف کا شان نزول یہ ہے کہ جب کفار کے مظالم حد سے بڑھ گئے اور صحابہ نے کچھ مایوسی کا اظہار کرنا شروع کر دیا تو اس وقت مسلمانوں کو آئندہ حکومت و بادشاہت ملنے کی امید دلا کر ان کو حوصلہ اور تسلی دی گئی۔نیز آیت استخلاف میں لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ فِي الْأَرْضِ میں لفظ الْاَرْضِ سے زمینی اور دنیاوی بادشاہت کا استدلال کیا جاتا ہے۔اور اس دعوی کی عملی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ خلافت راشدہ اولیٰ کو روحانی خلافت کے ساتھ ساتھ زمینی بادشاہت یعنی حکومت بھی عطا کی گئی تھی ؟ جواب:۔خلافت کے لئے حکومت کا ملنا ضروری نہیں ہے۔ا۔جہاں تک شان نزول کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ کسی آیت کے مضامین اور مطالب کو محض شان نزول تک محدود کر دینا یہ قرآنی روح کے منافی ہے۔اگر اس اصول کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ متعلقہ آیت کریمہ کا کوئی اور مفہوم اور مطلب نہیں ہوسکتا۔حالانکہ قرآن کریم کے کئی بطن اور ایک سے زیادہ مضامین ایک مسلمہ حقیقت ہے۔علاوہ ازیں شان نزول کا معیار محض ایک ذوقی استدلال ہے یہ کوئی تسلیم شدہ معیار نہیں۔لہذا ہر آیت کی شان نزول کی روشنی میں تشریح تفسیر کرنا ضروری نہیں۔۲۔جہاں تک آیت استخلاف میں لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ کے الفاظ میں فِی الأرضِ سے زمینی بادشاہت یعنی حکومت کا استدلال ہے تو یہ بھی قرآنی محاورہ