نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 432
۴۱۱ وعدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات جب کوئی سخت خطرہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے مقابلہ کی ہمت تک کھو بیٹھتے ہیں۔پھر فرماتا ہے يَعْبُدُو نَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کہ وہ خلفاء میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔گویا وہ خالص موحد اور شرک کے شدید ترین دشمن ہوں گے۔مگر دنیا کے بادشاہ تو شرک بھی کر لیتے ہیں حتی کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ ان سے کبھی کفر بواح صادر ہو جائے۔پس وہ اس آیت کے مصداق کس طرح ہو سکتے ہیں۔چوتھی دلیل جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان خلفاء سے مراد د نیوی بادشاہ ہرگز نہیں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ یعنی جو لوگ ان خلفاء کا انکار کریں گے وہ فاسق ہو جائیں گے۔اب بتاؤ کہ جو شخص کفر بواح کا بھی مرتکب ہوسکتا ہو۔آیا اس کی اطاعت سے خروج فسق ہوسکتا ہے؟ یقیناً ایسے بادشاہوں کی اطاعت سے انکار کرنا انسان کو فاسق نہیں بنا سکتا۔فسق کا فتویٰ انسان پر اسی صورت میں لگ سکتا ہے جب وہ روحانی خلفاء کی اطاعت سے انکار کرے۔غرض یہ چاروں دلائل جن کا اس آیت میں ذکر ہے اس امر کا ثبوت ہیں کہ اس آیت میں جس خلافت کا ذکر کیا گیا ہے وہ خلافت ملوکیت نہیں۔پس جب خدا نے یہ فرما ياليَسْتَخْلِفَنَّهُمُ فِى الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ کہ ہم ان خلیفوں پر ویسے ہی انعامات نازل کریں گے جیسے ہم نے پہلے خلفاء پر انعامات نازل کئے تو اس سے مراد یہی ہے کہ جیسے پہلے انبیاء کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی رہی ہے اسی طرح ان کی مدد ہوگی۔پس اس آیت میں خلافت نبوت سے مشابہت مراد ہے