نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 413 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 413

۳۹۲ کئی وعدے قوم سے ہی ہوتے ہیں لیکن پورے وہ افراد کے ذریعہ کئے جاتے ہیں۔اس کی مثال ہمیں قرآن کریم سے بھی ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوا یعنی موسی نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم میں اپنے انبیاء مبعوث کئے۔وَجَعَلَكُمْ مُّلُو گا اور اس نے تم کو بادشاہ بنایا۔اب کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ سب بنی اسرائیل بادشاہ بن گئے تھے۔یقیناً بنی اسرائیل میں بڑے بڑے غریب بھی ہوں گے مگر موسی ان سے یہی فرماتے ہیں کہ وَجَعَلَكُمْ مُّلُو کا اس نے تم سب کو بادشاہ بنایا۔مراد یہی ہے کہ جب کسی قوم میں سے بادشاہ ہو تو چونکہ وہ قوم ان انعامات اور فوائد سے حصہ پاتی ہے جو بادشاہت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے بالفاظ دیگر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بادشاہ ہو گئی۔سوال نمبر ۲:۔دوسرا سوال اس آیت پر یہ کیا جاتا ہے کہ پہلوں میں خلافت نبوت کے ذریعہ سے ہوئی یا ملوک کے ذریعہ سے۔مگر خلفائے اربعہ نہ نبی مانے جاتے ہیں نہ ملوک پھر یہ وعدہ کس طرح پورا ہوا اور خلفاء اربعہ اس آیت کے کس طرح مصداق ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں پہلوں کو خلافت یا تو نبوت کی شکل میں ملی یا ملوکیت کی صورت میں۔مگر مشابہت کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہر رنگ میں مشابہت ہو بلکہ صرف اصولی رنگ میں مشابہت دیکھی جاتی ہے۔مثلاً کسی لمبے آدمی کا ہم ذکر کریں اور پھر کسی دوسرے کے متعلق کہیں کہ وہ بھی ویسا ہی لمبا ہے تو اب کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو یہ کہے کہ تم نے دونوں کو لمبا قرار دیا ہے تو یہ مشابہت کس طرح