نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 40 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 40

۱۹ نبوت کے بعد خلافت کے ذریعہ پورا ہونے میں مددملتی ہے۔جہاں اس سے تو حید خداوندی کے قیام میں مدد ملتی ہے وہاں اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر امت میں وحدت اور اتحاد و یگانگت پیدا ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نظام خلافت کے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہتا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی رحمت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے۔اسی طرح خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتی ہے مخالفوں کو ہنسی ٹھٹھے اور طعن و تشنیع کا موقع دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر نا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔ا۔اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔۲۔دوسرے اپنے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا