نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 375 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 375

۳۵۴ میں مولانا ابوالعطاء صاحب پرنسپل جامعتہ المبشرین کی زیر صدارت ایک عظیم الشان جلسہ ہوا جو صبح کے بجے سے گیارہ بجے قبل دو پہر تک جاری رہا۔فاضل مقررین نے اپنی تقاریر میں خلافت کے ہر پہلو کو قرآن مجید، احادیث نبوی، حضرت مسیح موعود کی تحریرات اور حضرت خلیفہ اول کی تصریحات کی روشنی میں نہایت خوبی سے واضح کیا اور بتایا کہ انوار نبوت کو جاری رکھنے کے لئے خلافت کو قائم رکھنا اور اس کے شایان شان اعمال بجالا نا نہایت ضروری ہے۔مقررین نے حسب وصیت حضرت مسیح موعود خلافت احمدیہ کے قیام و استحکام اور اس کے بالمقابل منکرین خلافت کی ریشہ دوانیوں اور ان کے حسرت ناک انجام پر بھی روشنی ڈالی۔نیز حضرت خلیفہ امسیح الاول نے جس عزیمت، اور جلالت شان کے ساتھ جماعت میں خلافت کے نظام کی بنیاد رکھی اس کو بھی واضح کیا اور پھر سیدنا حضرت امصلح الموعود کی خلافت کے دور میں نظام خلافت کے طفیل جو عظیم الشان برکات نازل ہوئیں اور اطراف و جوانب عالم میں دین کو تمکنت نصیب ہوئے اور احمدیت کی سر بلندی کے سامان پیدا ہوئے اور جن میں حضور کے وجود باجود کی برکات سے روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ان کو بھی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔حاضرین نے نظام خلافت کی ضرورت واہمیت اور اس کی عظیم الشان برکات کے موضوعات پر علماء سلسلہ کی ایمان افروز تقاریر سننے کے بعد ایک نئے جوش اور نئے عزم کے ساتھ اپنے اس مقدس عہد کو دہرایا کہ وہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لئے خلافت حقہ کے آسمانی نظام کے ساتھ ہمیشہ وابستہ رہیں گے اور نسلاً بعد نسل اس نظام کو قیامت تک جاری رکھتے چلے جائیں گے تا تائید و نصرت الہی مرکزیت ، باہمی اتحاد و اخوت اور احمدیت کی سر بلندی کی شکل میں خلافت کی جن عظیم الشان برکات کا انہوں نے قدم قدم پر مشاہدہ کیا ہے