نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 362 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 362

۳۴۱ کر کے خود خلافت کو قائم کر چکی تھی اور جن اصحاب نے اب خلافت کے خلاف سوال اٹھایا تھا وہ سب اس فیصلہ میں شریک تھے اور اس کے مؤید و حامی تھے۔پس اس جہت سے بھی یہ نیا پراپیگنڈا ایک دیانتداری کا فعل نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔سوم یہ بات قطعا غلط تھی کہ حضرت مسیح موعود نے الوصیت میں خلافت کا ذکر نہیں کیا بلکہ جیسا کہ ہم الوصیت کا ایک اقتباس او پر درج کر چکے ہیں حضرت مسیح موعود نے صراحت اور تعیین کے ساتھ خلافت کا ذکر کیا تھا بلکہ حضرت ابوبکر کی مثال دے کر بتایا تھا کہ ایسا ہی میرے سلسلہ میں ہوگا اور یہ تصریح کی تھی کہ میرے بعد نہ صرف ایک خلیفہ ہوگا بلکہ خلافت کا ایک لمبا سلسلہ چلے گا اور متعددافراد قدرت ثانیہ کے مظہر ہوں گے۔پس ایسی صراحت کے ہوتے ہوئے یہ دعوی کس طرح دیانتداری پر مبنی سمجھا جاسکتا تھا کہ الوصیت میں خلافت کا ذکر نہیں۔چہارم غالبا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ اس سوال کے اٹھانے والوں نے کھلے طور پر اس سوال کو نہیں اٹھایا بلکہ حضرت خلیفہ اول سے مخفی رکھ کر خفیہ خفیہ پراپیگنڈا کیا جو یقینا اچھی نیت کی دلیل نہیں ہے۔مندرجہ بالا وجو ہات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان اصحاب کی نیت صاف نہیں تھی اور یہ ساری کوشش محض اپنے آپ کو طاقت میں لانے یا کسی دوسرے کی ماتحتی سے اپنے آپ کو بچانے کی غرض سے تھی ان کا یہ عذر کہ یہ جمہوریت کا زمانہ ہے اور ہم سلسلہ کے اندر جمہوری نظام قائم کرنا چاہتے ہیں یا تو محض ایک بہانہ تھا اور یا پھر یہ اس بات کی دلیل تھی کہ یہ اصحاب سلسلہ احمدیہ میں منسلک ہو جانے کے باوجو دسلسلہ کی اصل غرض و غایت اور اس کے مقصد و منتہی سے بے خبر تھے اور اسے ایک محض دنیوی نظام سمجھ کر دنیا کے سیاسی قانون کے ماتحت لانا چاہتے تھے گو یہ علیحدہ بات ہے کہ دنیا کا سیاسی قانون