نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 361 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 361

۳۴۰ کا منشاء یہ تھا کہ سلسلہ کا سارا انتظام صدرانجمن احمدیہ کے ہاتھ میں رہے جس کی آپ نے اسی غرض سے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بنیاد رکھی تھی۔پس اگر کسی خلیفہ کی ضرورت ہو تو بھی تو وہ صرف بیعت لینے کی غرض سے ہوگا اور انتظام کی ساری ذمہ داری صدر انجمن احمدیہ کے ہاتھ میں رہے گی۔اس سوال کی ابتدا ء صدرانجمن احمدیہ کے بعض ممبروں کی طرف سے ہوئی تھی جن میں مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز قادیان اور خواجہ کمال الدین صاحب بی اے ایل ایل بی لاہور زیادہ نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ان اصحاب اور ان کے رفقاء نے خفیہ خفیہ اپنے دوستوں اور ملنے والوں میں اپنے خیالات کو پھیلانا شروع کر دیا اور ان کی بڑی دلیل یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود کی وصیت میں خلافت کا ذکر نہیں ہے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی ایک غیر مطبوعہ تحریر میں صدر انجمن احمدیہ کے حق میں اس قسم کے الفاظ لکھے ہیں کہ میرے بعد اس انجمن کا فیصلہ قطعی ہوگا وغیر ذالک۔دلوں کا حال تو خدا جانتا ہے مگر ظاہری حالات پر اندازہ کرتے ہوئے اس سوال کے اٹھانے والوں کی نیت اچھی نہیں سمجھی جا سکتی تھی کیونکہ :۔اول جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے اس سوال کے اٹھانے والے صدرانجمن احمد یہ ہی کے بعض ممبر تھے اور یہ ظاہر ہے کہ انجمن کے طاقت میں آنے سے خود ان کو طاقت حاصل ہوتی تھی۔دوم حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد صدرانجمن احمد یہ اپنے سب سے پہلے فیصلہ میں اتفاق رائے کے ساتھ یہ قرار دے چکی تھی کہ جماعت میں ایک واجب الا طاعت خلیفہ ہونا چاہئے۔پس اگر بالفرض حضرت مسیح موعود کی کسی تحریر کا یہ منشاء تھا بھی کہ میرے بعد انجمن کا فیصلہ قطعی ہو گا تو صدرانجمن احمد یہ خلافت کے حق میں فیصلہ