نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 360
۳۳۹ باب ہفتم خلافت احمدیہ کے خلاف اندرونی سازشیں خلافت اولی کے قیام کے ایک سال بعد ہی نظام خلافت کے خلاف بعض افراد نے سازشیں شروع کردیں۔ان سازشوں کے محرکات اور مقاصد کیا تھے اور ان میں کون کون احباب ملوث تھے۔انہوں نے کیا کیا ہتھکنڈے اختیار کئے اور کس طرح خدا تعالیٰ نے ان کو اپنے منصوبوں میں ناکام بنایا اور نظام خلافت احمد یہ کو کس طرح استحکام عطا فرمایا۔ان تمام حالات و واقعات کی تاریخ ان حالات و واقعات کے عینی شاہد جماعت کے ایک عظیم صاحب علم و اہل قلم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے کی زبانی پیش کرتے ہیں جو آپ نے اپنی معروف تالیف ”سلسلہ احمدیہ میں تحریر فرمائے ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔حضرت مسیح موعود کی وفات پر خدا نے اپنی قدیم سنت کے مطابق آپ کی گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال کر اپنی قدرت نمائی کا ثبوت دیا وہاں تقدیر کے بعض دوسرے نوشتے بھی پورے ہونے والے تھے۔چنانچہ ابھی حضرت مسیح موعود کی وفات پر ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ بعض لوگوں نے جن کے ہاتھ پر اس فتنہ کا بیج بونا مقدر تھا مخفی مخفی اور آہستہ آہستہ یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ دراصل حضرت مسیح موعود کا یہ منشاء نہیں تھا کہ آپ کے بعد جماعت میں کسی واجب الا طاعت خلافت کا نظام قائم ہو بلکہ آپ