نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 347
۳۲۶ ۴۔دورہ مغربی افریقہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد وسط مارچ ۲۰۰۴ء میں مغربی افریقہ کے پہلے دورہ پر روانہ ہوئے۔اور اس دورہ میں غانا، نائیجیریا، برکینا فاسو اور بین کا دورہ کیا۔اس دورہ میں غانا کے صدر مملکت سے ملاقات بھی ہوئی۔صدر مملکت غانا خود جلسہ سالانہ غانا میں تشریف لائے اور خطاب کیا اور جماعت احمد یہ عالمگیر کی خدمات کو سراہا۔اس دورہ میں حضور کا ہر علاقہ ہر ملک میں استقبال بے نظیر اور بے مثل تھا۔افراد جماعت کا جذبہ اور خوشی کا اندازہ لگانا ممکن نہ تھا۔حضور کا یہ دورہ ہر لحاظ سے انتہائی کامیاب و کامران تھا۔حضور نے اس دورہ میں ۲۱ نئی مساجد کا افتتاح بھی فرمایا۔نیز متعدد ہسپتالوں اور سکولوں کا بھی افتتاح فرمایا۔حضور انور کے اس دورہ سے مذکورہ ممالک میں بیداری کی ایک لہر دوڑ گئی۔۵ - نظام وصیت میں شمولیت کی تحریک جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۰۴ء کے موقع پر اختتامی خطاب میں حضور نے تحریک فرمائی کہ ۲۰۰۸ء میں خلافت احمدیہ کے قیام پر سو سال مکمل ہو جائیں گے۔اس وقت تک لازمی چندہ دہندگان کی ۵۰ فیصد تعداد نظام وصیت میں شامل ہو جانی چاہئے۔حضور کی اس تحریک کی برکت سے اب تک تقریباً تمیں ہزار نئے افراد نظام وصیت کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں۔الحمد للہ علی ذالک۔