نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 346 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 346

۳۲۵ ع الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے راکتو بر۲۰۰۳ء کوخطبہ جمعہ ارشاد کر کے فرمایا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے 19 اکتوبر ۱۹۹۹ء کو اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔سنگ بنیاد میں آپ نے بیت المبارک قادیان کی اینٹ رکھی۔اس کا رقبہ ۱٫۵۶۲ کیکڑ ہے جو ۱۹۹۶ء میں ۲۳ ۲ ملین پاؤنڈ سے خریدا گیا۔گنبد کا قطر ۵ء۱۵ میٹر ہے جو چھت سے آٹھ میٹر اور گراؤنڈ کی سطح سے ۲۳ میٹر اونچا ہے۔مینار کی اونچان ۲۵۶۵ میٹر ہے۔بیت الفتوح زنانہ و مردانہ ہال میں قریباً چار ہزار جبکہ دیگر ہالز کو ملا کر کل دس ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔اس بیت میں وسیع وعریض طاہر، ناصر اور نور ہال ہیں۔جماعت کے دفاتر کا نفرنس روم ، لائبریری اور جمنیزیم بھی موجود ہے۔اس بیت الذکر کو مشرقی یورپ کی سب سے بڑی بیت الذکر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔۳۔ڈاکٹر ز کو وقف کی تحریک مورخہ ۱۷ اکتو بر ۲۰۰۳ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے احمدی ڈاکٹر کو وقف کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: احمدی خدمت انسانیت کے میدان میں آگے ہی آگے نظر آتے ہیں۔افریقہ کے غریب ممالک میں خلیفہ اسیح کی تحریک پر احباب نے والہانہ لبیک کہا اور ٹیچر ز و ڈاکٹرز نے وقف کیا۔اب بھی نصرت جہاں سکیم اور فضل عمر ہسپتال میں ڈاکٹرز کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ز وقف کر کے خدمت کے میدان میں آئیں۔حضرت مسیح موعود کی شرط یہ بھی تھی کہ بیعت کے بعد اب بیعت کنندہ کا کچھ نہیں رہا سب رشتے نظام اور مسیح موعود کے ساتھ وابستہ ہیں۔“