نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 310 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 310

۲۸۹ صلیب کا نفرنس منعقد ہوئی۔جس میں دنیا بھر سے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے علماء شامل ہوئے اور انہوں نے اپنے اپنے تحقیقی اور علمی مضامین اس میں پڑھ کر سنائے جن میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ غلط ہے اور حضرت مسیح موعود نے ان کی وفات کا جو نظریہ پیش کیا ہے وہ ہر لحاظ سے صحیح اور درست ثابت ہوا ہے۔ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس کانفرنس میں شامل ہوئے جو کہ پاکستان، ہندوستان، افریقہ، امریکہ، یورپ اور ایشیا کے دیگر مختلف ملکوں سے آئے تھے۔اس کا نفرنس میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بھی تشریف لے جا کر شرکت فرمائی۔حضور نے اس موقعہ پر ایک اہم خطاب فرمایا جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق عیسائیوں کے اس عقیدہ کا غلط ہونا ثابت کیا کہ وہ خدا تھے اور اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں۔گویا حضور نے عیسائیوں کے گڑھ میں جا کر انہیں اسلام کی تبلیغ فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول اکرمﷺ کی رسالت اور آپ کی بلند شان کا اظہار فرمایا۔یورپ اور انگلستان کے ہزاروں باشندوں نے حضور کا یہ خطاب سنا اور اس سے بہت متاثر ہوئے۔دنیا بھر کے اخباروں، رسالوں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے اس کانفرنس کی تفصیلی خبر میں اپنے اپنے ملکوں میں سنائیں اور دکھا ئیں۔عیسائی مذہب کے لیڈروں نے جب دیکھا کہ یہ کا نفرنس بڑی کامیاب رہی ہے تو وہ بہت گھبرائے۔اس کا اثر زائل کرنے کے لئے انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو تبادلہ خیال کی دعوت دی لیکن جب حضور نے اسے منظور کرنے کا اعلان کیا تو مختلف بہانے بنا کر ٹال گئے اور گفتگو کرنے سے انکار کر دیا۔اس طرح اپنے عمل سے عیسائیت کی شکست اور اسلام کی فتح کا اعتراف کر لیا۔الحمد للہ !