نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 285 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 285

۲۶۴ نے جو کہ مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر تھے نے فتنہ بپا کیا۔(ب)۱۹۵۶ء میں بعض افراد کو اپنے ساتھ ملا کر فتنہ کھڑا کیا مگر یہ سب لوگ اپنے ارادوں میں ناکام و نامرادر ہے۔فتنہ احرار کا مقابلہ ۱۹۳۴ء میں احراریوں نے ملک میں وسیع پیمانے پر فتنہ کھڑا کیا، مسلمانوں میں جماعت احمدیہ کے متعلق سخت غلط فہمیاں پھیلا دیں۔اس وقت کی انگریزی حکومت کے بعض اعلیٰ افسر بھی اور خود گورنر پنجاب بھی جماعت کے خلاف ہو کر احراریوں کی مدد کرنے لگے۔اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ سارا ملک اب احراریوں کے ساتھ ہے۔ان لوگوں نے قادیان میں جمع ہو کر جلسے کئے اور احمدیت کو مٹا دینے کا دعوی لے کر کھڑے ہوئے۔عین اس زمانے میں جبکہ یہ فتنہ زوروں پر تھا حضرت اقدس نے اپنے خطبہ میں خدا تعالیٰ کے اشارے سے یہ اعلان فرمایا کہ:۔زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں تلے سے نکل رہی ہے اور میں ان کی شکست کو ان کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں“۔اس اعلان کے بعد جلد ہی خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ احراری مسلمانوں میں بدنام ہو گئے ان کا جھوٹا ہونا سب پر ظاہر ہو گیا اور اس طرح بجائے احمدیت کو مٹانے کے وہ خود تباہ ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جو کچھ فرمایا تھاوہ پورا ہوا۔۱۹۵۳ء میں مخالفین نے پاکستان میں پھر نئے سرے سے جماعت پر حملہ کیا اس دفعہ انہوں نے اپنی طرف سے ۱۹۳۴ء سے بھی زیادہ خطر ناک حالات جماعت کے لئے پیدا کئے ، احمدیت کے خلاف جلسے کر کے اور جلوس نکال کر سارے ملک میں گویا