نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 263 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 263

۲۴۲ صدق وصفا کی شمعیں جلائیں کچھ اس طرح توحید کی ضیا سے جہاں جگمگا دیا پنے ہی گرد و پیش سے فرصت نہ تھی جنہیں سارے جہاں کے درد کا چسکا لگا دیا ڈالی جو خاک پر کبھی مچلی ہوئی نگاہ ہر ذرہ حقیر کو سونا بنا دیا بھر کر دلوں میں ذوق یقیں، ذوق حریت روندے ہوؤں کو عرش کا تارا بنا دیا طوفاں ٹھہر گئے وہ اگر مسکرا دیا اللہ رے اس جری کے عزائم کی آب و تاب میں اس حسیں یاد کو دل میں بساؤں گا اک لازوال نقش محبت بناؤں گا خلافت ثانیہ کے شیریں ثمرات ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب حضرت مرزا بشیر الدین محمد احمد صاحب اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق مخلصین جماعت احمدیہ کی دردمندانہ دعاؤں کے ساتھ مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔آپ حضرت مسیح موعود کی پُر درد اور مقبول دعاؤں کا عظیم ثمرہ تھے۔آپ کا وجود قبولیت دعا کا ایک زندہ اور مجسم معجزہ تھا۔دعاؤں کے ساتھ آپ کو ایک عجیب نسبت تھی۔دعاؤں نے آپ کو خلعت وجود بخشا دعائیں ہی آپ کا سرمایہ حیات رہیں۔حضرت مصلح موعودؓ کو خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی نہایت مشکل اور صبر آزما حالات کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر مشکل وقت میں اپنے خاص فضل اور رحم کا سہارا دیا اور خطر ناک سے خطر ناک وادی سے آپ اپنی جماعت کو نہایت کامیابی اور کامرانی سے بچاتے ہوئے فتح و نصرت کی نئی منازل کی طرف