نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 261
۲۴۰ آخری بیماری اور وفات سفر یورپ سے آنے کے بعد گو حضور کو ایک حد تک آرام محسوس ہوتا تھا اور حضور نے نمازیں پڑھانی ، خطبات دینے اور خلافت کے دیگر ضروری کام بھی سرانجام دینے شروع کر دیئے تھے مگر اصل بیماری ابھی موجود تھی۔اسی حالت میں حضور نے تفسیر صغیر جیسا اہم کام شروع کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ کام کرنے کی وجہ سے حضور پھر زیادہ بیمار ہو گئے۔۱۹۵۸ء میں بیماری کا دوبارہ حملہ ہوا۔ہر ممکن علاج ہوتا رہا۔ملک کے قابل ترین ڈاکٹروں کے علاوہ بیرونی ملکوں کے ڈاکٹروں کو بھی دکھایا گیا اور ان سے مشورے کئے جاتے رہے مگر بیماری بڑھتی ہی چلی گئی اور حضور کمزور ہوتے گئے۔حتی کہ آخر وہ وقت بھی آگیا جس کا تصور بھی کوئی احمدی نہیں کرنا چاہتا تھا یعنی مورخہ ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کی درمیانی رات کو ۲ بجگر ۲۰ منٹ پر قریباےے سال کی عمر میں حضور ہمیں داغ جدائی دے کر اپنے مولائے کریم کے پاس جا پہنچے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ط حضور کی وفات پر احمدیوں کی جو حالت ہوئی اس کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا لیکن سچا مومن ہر حالت میں خدا کی رضا پر راضی رہتا ہے۔جب خدا کی یہ سنت ہے کہ جو شخص بھی اس دنیا میں آتا ہے۔آخر وہ یہاں سے رخصت ہو جاتا ہے۔تو حضور نے بھی آخر اس دنیا سے رخصت ہونا ہی تھا سو آخر وہ وقت آ گیا اور حضور ہم سے رخصت ہو گئے اگلے دن مورخہ 9 نومبر کو ساڑھے ۴ بجے سہ پہر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ میں پاکستان کے ہر حصہ سے آئے ہوئے قریب ۵۰ ہزار احمدی شامل ہوئے جو کہ اپنے پیارے آقا کی وفات کی خبر سنتے ہی دیوانہ وار اپنے مرکز