نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 249
۲۲۸ خلافت اولیٰ کے عہد میں جماعت کی مالی ترقی خلافت اولیٰ کے عہد میں سلسلہ کے آمد و خرچ کے بجٹ میں بھی اضافہ ہوا۔چنانچہ ۸-۱۹۰۷ء میں صدر انجمن احمدیہ کوکل آمد ۴۰۹۳۸ ( چالیس ہزار نو سوار تھیں) کے قریب ہوئی۔مگر ۱۴-۱۹۱۳ء میں آمد کا بجٹ (ایک لاکھ ننانوے ہزار سات سو پچاس ۹۹،۷۵۰، بنایا گیا)۔قادیان میں پبلک عمارتوں کی تعمیر حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کا اضافہ ہوا۔مثلاً تعلیم الاسلام ہائی سکول اور اس کا بورڈنگ ،مسجد نور اور اسی عہد میں محلہ ناصر آباد کی بنیا د رکھی گئی۔نیز مسجد اقصیٰ کی توسیع ہوئی۔مدرسہ احمدیہ کا قیام ( تاریخ احمدیت جلد ۳ نیا ایڈیشن ص ۶۰۹) دینیات کی ایک علیحدہ شاخ تعلیم الاسلام ہائی اسکول کے ساتھ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں قائم ہوگئی تھی لیکن حضرت خلیفہ اول کی خواہش تھی کہ اسے مستقل اور الگ صورت میں حضرت مسیح موعود کی یادگار کے طور پر قائم کیا جائے۔چنانچہ یکم مارچ ۱۹۰۹ء کو با قاعدہ طور پر مدرسہ احمدیہ کی بنیاد رکھی گئی۔اس کے پہلے ہیڈ ماسٹر حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مقرر ہوئے۔کچھ عرصہ بعد جب اس مدرسہ کا انتظام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی) کے سپر د ہوا تو اس نے غیر معمولی طور پر بہت ترقی کی۔