نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 224 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 224

٢٠٣ الزام کے ماتحت انہیں فارغ نہ کر دیا ہو۔(ان کو تحریک جدید سرٹیفیکیٹ دے گی اور ان کے ناموں کا اعلان کرے گی ) اا۔ایسے تمام مبلغین سلسلہ احمدیہ جنہوں نے پاکستان کے کسی صوبہ یا ضلع میں رئیس التبلیغ کے طور پر کم از کم ایک سال کام کیا ہو اور بعد میں ان کو صدرانجمن احمدیہ نے کسی الزام کے ماتحت فارغ نہ کر دیا ہو۔(انہیں صدرانجمن احمد یہ سرٹیفیکیٹ دے گی اور ان کے ناموں کا اعلان کرے گی ) مجلس انتخاب خلافت کا دستور العمل سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مندرجہ بالا جملہ اراکین مجلس انتخاب خلافت کے کام کے لئے حسب ذیل دستورالعمل منظور فرمایا ہے:۔الف۔مجلس انتخاب خلافت کے جو اراکین مقرر کئے گئے ہیں۔ان میں سے بوقت انتخاب حاضر افراد انتخاب کرنے کے مجاز ہوں گے۔غیر حاضر افراد کی غیر حاضری اثر انداز نہ ہوگی اور انتخاب جائز ہوگا۔ب۔انتخاب خلافت کے وقت اور مقام کا اعلان کرنا مجلس شوری کے سیکرٹری اور ناظر اعلیٰ کے ذمہ ہوگا۔ان کا فرض ہوگا کہ موقع پیش آنے پر فوراً مقامی اراکین مجلس انتخاب کو اطلاع دیں۔بیرونی جماعتوں کو تاروں کے ذریعہ اطلاع دی جائے۔اخبار الفضل میں بھی اعلان کر دیا جائے۔ج۔نئے خلیفہ کا انتخاب مناسب انتظار کے بعد چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ہونا چاہئے۔مجبوری کی صورت میں زیادہ سے زیادہ تین دن کے اندر انتخاب ہونا لازمی ہے۔اس درمیانی عرصہ میں صدر انجمن احمدیہ پاکستان جماعت کے جملہ کاموں کو سرانجام دینے کی ذمہ دار ہوگی۔