نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 223
۲۰۲ مجلس انتخاب خلافت کے اراکین میں اضافہ جلسہ سالانہ ۵۶ ء کے بعد حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے علماء سلسلہ اور دیگر بعض صاحبان کے مشورہ کے مطابق مجلس انتخاب خلافت میں مندرجہ ذیل اراکین کا اضافہ فرمایا:۔۱۔مغربی پاکستان کا امیر اور اگر مغربی پاکستان کا ایک امیر مقرر نہ ہو تو علاقہ جات مغربی پاکستان کے امراء جو اس وقت چار ہیں۔۲۔مشرقی پاکستان کا امیر۔۳۔کراچی کا امیر ۴۔تمام اضلاع کے امراء ۵۔تمام سابق امراء جو دو دفعہ کسی ضلع کے امیر رہ چکے ہوں۔گوانتخاب خلافت کے وقت امیر نہ ہوں۔( ان کے اسماء کا اعلان صدرانجمن احمد یہ کرے گی )۔۶۔امیر جماعت احمدیہ قادیان ۷ ممبران صدرانجمن احمدیہ قادیان ۸ تمام زنده صحابه کرام کو بھی انتخاب خلافت میں رائے دینے کا حق ہوگا۔(اس غرض کے لئے صحابی وہ ہوگا جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا ہوا ور حضور کی باتیں سنی ہوں اور ۱۹۰۸ء میں حضور علیہ السلام کی وفات کے وقت اس کی عمر کم از کم بارہ سال کی ہو۔صد را مجمن احمد یہ تحقیقات کے بعد صحابہ کرام کے لئے سرٹیفیکیٹ جاری کرے گی اور ان کے ناموں کا اعلان کرے گی) ۹۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اولین صحابیوں میں ہر ایک کا بڑا لڑکا انتخاب میں رائے دینے کا حقدار ہوگا بشرطیکہ وہ مبائعین میں شامل ہو۔(اس جگہ صحابہ اولین سے مراد وہ احمدی ہیں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۹۰۱ء سے پہلے کی کتب میں فرمایا ہے (ان کے ناموں کا اعلان بھی صدر انجمن احمد یہ کرے گی ) ۱۰۔ایسے تمام مبلغین سلسلہ احمدیہ جنہوں نے کم از کم ایک سال بیرونی ممالک میں تبلیغ کا کام کیا ہواور بعد میں تحریک جدید نے کسی