نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 209 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 209

۱۸۸ ظاہر ہے کہ یہ جماعت مسیح موعود ہی کی جماعت ہے اور اس کے لئے دوسری احادیث میں خلافت علی منہاج النبوت کی دائمی نعمت کے پانے کی بھی خوشخبری دی گئی ہے۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت حذیفہ بن یمان والی معروف حدیث مبارکہ میں امت محمدیہ کو مطلع کر دیا تھا کہ میرے وصال کے فورا بعد ایک دور خلافت راشدہ کا ہوگا اور متعد د خلفاء ہوں گے جو میرے مشن کی تکمیل کے لئے بر پاکئے جائیں گے۔آپ نے حکم دیا کہ سب مسلمان ان خلفاء کی اطاعت کریں۔ان کے احکام کو مانیں اور ان کی تحریکات پر لبیک کہیں۔پھر درمیانی صدیوں کی خرابیوں کا ذکر کرنے کے بعد نبی اکرم اللہ نے خلافت علی منہاج النبوۃ والی معروف حدیث میں نہایت واضح رنگ میں فرمایا تھا:۔ثُمَّ تَكُونُ الخِلَافَةُ عَلَى مِنْهَاجِ النَّبُوَّةِ۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۴ ص ۲۷۳) یعنی آخری زمانہ میں امت محمدیہ میں پھر خلافت راشدہ کا دور آئے گا۔شارحین حدیث نے بالا تفاق لکھا ہے کہ خلافت علی منہاج النبوۃ کی پیشگوئی مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ سے متعلق ہے۔یعنی خلافت راشدہ کا یہ دور اس زمانہ میں شروع ہوگا۔چنانچہ حضرت سید محمد اسمعیل شہید نے اپنی مشہور کتاب ”منصب امامت میں خلافت علی منہاج نبوت کے سلسلہ میں تحریر فرمایا ہے:۔امامت تامہ کو خلافت را شده ، خلافت علی منہاج نبوت اور خلافت رحمت بھی کہتے ہیں۔واضح ہو کہ جب امامت کا چراغ شیعہ خلافت میں جلوہ گر ہوا تو نعمت ربانی بنی نوع انسان کی پرورش کے لئے کمال تک پہنچی اور کمال روحانیت امی رحمت ربانی کے کمال کے ساتھ نور علی نور آفتاب کی مانند چمکا۔منصب امامت ص ۷۹۔ایڈیشن دوم ۱۹۶۹ء )