نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 207 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 207

۱۸۶ خان کے پوتے ہلاکو خان نے سلجوقیوں کو شکست دے کر ایشیائے کو چک کی دولت سلجوقیہ کی سالمیت کا خاتمہ کر دیا اور ان کی سلطنت کا ہر رئیس اپنی اپنی جگہ خود مختار ہو گیا۔ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عثمان بے نے بھی اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا۔عثمان بے نے ۳۸ سال حکومت کی۔اس عرصے میں سلطنت عثمانیہ کی حدود جنوب میں کتابیہ (Kutahya) تک اور شمال میں بحر مارمورا اور بحر اسود کے ساحلوں تک پھیل گئی تھیں۔اس کا مرکز قسطنطنیہ ترکی تھا۔اس بات پر مؤرخین کا بالعموم اتفاق ہے کہ عثمانی سلطنت کی ابتداء ۱۳۹۹ء میں جتنیا (Bittynia) کے مقام سے ہوئی تھی۔( ترکی از اکمل ایوبی ادارہ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ) بالآخر دولت عثمانیہ کا اختتام مصطفی کمال پاشا کے ذریعہ ۱۹۲۴ء میں ہوا۔اور ترکی میں دولت عثمانیہ کے خاتمہ پر جمہوریت کی بنیاد رکھی گئی۔عملاً بیسویں صدی کے آغاز پر خلافت عثمانیہ کا زور ٹوٹ چکا تھا۔اور برائے نام خلافت باقی تھی۔جس کو قائم رکھنے کی خاطر عالم اسلام میں تحریک بھی چلائی گئی مگر اس کا قائم رہنا ناممکن تھا کیونکہ الہی پروگرام کے مطابق ۲۷ مئی ۱۹۰۸ ء کو خلافت علی منہاج نبوت کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔لہذا دولت عثمانیہ کا خاتمہ ایک الہی پروگرام کے تحت تھا۔