نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 184 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 184

۱۶۳ ہوگئی تو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کی وفات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہ تھے۔حضرت عمرؓ نے جب یہ خبرسنی تو آپ نے اپنی تلوار سونت لی اور یہ اعلان کر دیا کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ آنحضرت فوت ہو گئے ہیں تو میں اس کی گردن اڑادوں گا۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۳۹۲ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵) مگر جب حضرت ابو بکر کو اس صورتحال کی خبر ہوئی تو آپ نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کی تلاوت کی:۔وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُم عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَّنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّكِرِينَ (آل عمران: ۱۴۵) یعنی اور محمد نہیں ہے مگر ایک رسول۔یقینا اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔پس کیا اگر یہ بھی وفات پا جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے گا تو وہ ہرگز اللہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔اور اللہ یقیناً شکر گزاروں کو جزا دے گا۔چنانچہ اس آیت کریمہ کی تلاوت کے بعد ابو بکر نے ایک ایسی تقریر فرمائی کہ صحابہ کو آنحضرت ﷺ کی وفات کا یقین ہو گیا۔روایات میں آتا ہے کہ بعض صحابہ نے تو یہاں تک کہا کہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آج ہی یہ آیت اتری ہے۔پس آنحضرت ﷺ کے بعد یہ پہلا اجماع تھا جس پر تمام صحابہ نے اتفاق کیا۔(سیرۃ ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۹ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ ) آنحضرت کی وفات کا صحابہ کو یقین ہو جانے کے بعد اب الہی پروگرام کے تحت صحابہ نے آنحضرت ﷺ کے خلیفہ اور جانشین کے بارہ میں سوچنا شروع کر دیا۔جو آنحضرت کے پروگرام کو آگے بڑھائے تا کہ امت