نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 143 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 143

۱۲۲ ” خلیفہ استاد ہے اور جماعت کا ہر فردشاگرد۔جو لفظ بھی خلیفہ کے منہ سے نکلے وہ عمل کئے بغیر نہیں چھوڑنا۔(روز نامه الفضل قادیان ۲ مارچ ۱۹۴۶ء) پھر آپ فرماتے ہیں: تم سب امام کے اشارے پر چلو اور اس کی ہدایت سے ذرہ بھر بھی ادھر ادھر نہ ہو۔جب وہ حکم دے بڑھو اور جب وہ حکم دے ٹھہر جاؤ اور جدھر بڑھنے کا وہ حکم دے ادھر بڑھو اور جدھر سے ہٹنے کا وہ حکم دے ادھر سے ہٹ جاؤ“۔پھر آپ نے ایک اور موقع پر فرمایا: (انوار العلوم جلد ۴ اص ۵۱۶،۵۱۵) ” خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں ، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔( خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۳۶ء مندرجه روزنامه الفضل قادیان ۳۱ جنوری ۱۹۳۶ء) اطاعت خلافت کا معیار کیا ہونا چاہئے؟ اس کی وضاحت خود حضور نے یہ فرمائی ”ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔۔ہزار دفعہ کو ئی شخص کہے کہ مسیح موعود پر ایمان لاتا ہوں۔ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتا ہوں۔خدا کے حضور اس کے ان دعووں کی کوئی قیمت نہیں ہوگی جب تک وہ اس شخص کے