نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 141
۱۲۰ ہیں مگرز نجیر نہیں جو بڑے بڑے جہازوں کو گرفتار کرسکتی ہے۔مسئلہ خلافت ص۲۱۳- از مولانا ابوالکلام آزاد مطبوعہ خیابان عرفان کچہری روڈ لاہور ) حضرت شاہ اسمعیل شہید اپنی کتاب منصب امامت میں خلیفہ وقت کے حکم کو واجب الاتباع اور اصول دین سے قرار دیتے ہیں۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :۔شرع مجموعہ کتاب اللہ وسنت رسول اور احکام خلیفہ اللہ سے مستفادہ شدہ امور سے مراد ہے۔پس جیسا کہ کتاب وسنت اصول دین متین سے ہے ایسا ہی حکم امام بھی ادلہ شرع مبین سے ہے اور جس طرح سنت کو کتاب اللہ سے دوسرا درجہ حاصل ہے ایسا ہی حکم امام سنت رسول سے دوسرے درجہ پر ہے۔پس اصل کتاب اللہ ہے اور اسے واضح کرنے والی سنت نبوی اور اس کا مبین امام ہے۔کتاب اللہ پر ایمان سب سے اول ہے اور ایمان بالرسول بعدہ اور خلیفہ اللہ پر یقین تیسرے درجہ پر ہے۔اسی بناء پر علماء امت نے اطاعت امام کو غیر مخصوصہ مقام پر صحت قیاس پر موقوف نہیں رکھا۔بلکہ اس کی اطاعت کو باوجود اس کے ضعیف قیاس کے بھی واجب جانا ہے اور اس کے مخالف کو اگر چہ اس کا قیاس امام کے قیاس سے اظہر اور قوی ہو جائز نہیں رکھا اور اس میں راز یہی ہے کہ اس کا حکم بذاتہ اصول دین سے ایک اصل ہے اور ادلہ شرعیہ سے ایک دلیل ہے جو صحیح قیاس سے قوی ہے“۔( منصب امامت ص ۱۲۷، ۱۲۸- از شاہ اسمعیل شهید مطبع حاجی حنیف اینڈ سنز لا ہورا کتوبر ۱۹۹۴ء) آگے چل کر مزید فرماتے ہیں:۔ازاں جملہ ایک تو نجات اخروی ہے جس کا دارو مدار ان کی طاقت پر ہے۔چنانچہ اگر چہ کوئی شخص معرفت الہی اور تہذیب نفس میں ہزار جد و جہد اور سعی بلیغ کرے لیکن اگر ایمان بالانبیاء نہ رکھتا ہو تو ہر گز نجات اخروی نہ پاسکے گا۔اور غضب جبارو