نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 139
۱۱۸ یعنی جو جماعت سے بالشت بھر بھی باہر ہوا اس کے متعلق یہ حکم ہے کہ گویا اس نے اسلام کی اطاعت کا حلقہ اپنی گردن سے نکال دیا۔ایک روایت میں ہے دَخَلَ النَّارَ یعنی جو خلیفہ کی اطاعت سے باہر ہو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت اور احادیث نبویہ سے اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان کے خلفاء و نائبین اور اولی الامر کی اطاعت کی اہمیت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے۔نبی چونکہ اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اور نائب ہوتا ہے۔لہذا اس کی نافرمانی گویا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے اور خلیفہ وقت چونکہ رسول کا جانشین اور نائب ہوتا ہے۔لہذا خلیفہ کی نافرمانی گویا رسول کی نافرمانی ہوتی ہے۔اسی طرح اولی الامر خواہ ان کی حیثیت خلیفہ یا امام یا امیر کی ہوتی ہے یا ان کے مقرر کردہ کسی صاحب امر کی ہوتی ہے۔چنانچہ ان کی نافرمانی خلیفہ وقت یا رسول کی نافرمانی متصور ہوتی ہے۔علی ھذا القیاس۔پس اس صورتحال سے خلیفہ وقت کی اطاعت کی اہمیت کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد اپنی کتاب مسئلہ سیاست میں اطاعت خلیفہ والتزام جماعت“ کے عنوان کے تحت خلیفہ وقت کی اطاعت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔اس اجمالی تمہید کے بعد سب سے زیادہ اہم مسئلہ سامنے آتا ہے۔یعنی اسلام کا وہ نظام شرعی جو ہر مسلمان کو خلیفہ وقت کی معرفت اور اطاعت پر اسی طرح مجبور کرتا ہے جس طرح اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف حکم نہ دے۔اسلام کا قانون اس بارے میں اپنی تمام شاخوں اور تعلیموں کی طرح فی الحقیقت کا ئنات ہستی کے قدرتی نظام کا ایک جز ء اور قوام ہستی کی زنجیر فطرت کی ایک قدرتی کڑی ہے۔کائنات کے ہر حصہ اور گوشہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کی