نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 121 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 121

سے اظہار کرتے اور فرماتے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا اور میں اس کی قدر کرتا ہوں۔میں اس کی بے حرمتی کا مرتکب نہیں ہوسکتا اور اس منصب سے ہرگز ہرگز الگ نہیں ہوسکتا۔صلحاء امت اور خلافت امت کے گزشتہ صلحاء بھی اس بات کے قائل تھے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور اگر چہ بظاہر لوگوں کے ذریعہ اس کا انتخاب عمل میں آتا ہے لیکن ان کے دلوں میں اس بات کا الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی کیا جاتا ہے کہ وہ ایسے شخص کو خلیفہ منتخب کریں جسے خدا تعالیٰ خلیفہ بنانا چاہتا ہے۔چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں:۔آیت لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ خلفاء کو مقررفرماتا ہے۔جب اصلاح عالم کے لئے کسی خلیفہ کی ضرورت سمجھتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں الہا نا ڈال دیتا ہے کہ وہ ایسے شخص کو خلیفہ منتخب کریں جسے خدا تعالیٰ خلیفہ بنانا چاہتا ہے“۔(ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء جلد ۱ ص ۹۔ازشاہ ولی اللہ محدث دہلوی) حضرت مسیح موعود کے ارشادات اس زمانہ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم و تلقین کو، جو امت کے لئے حکم و عدل ہیں ہم جب دیکھتے ہیں تو اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ بنانا انسانوں کا کام نہیں بلکہ یہ خالصہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں یہ سوال پیش ہوا کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے خود اپنے بعد کیوں کسی خلیفہ کے متعلق وصیت نہ کر دی؟ اس سوال کے جواب میں خدا تعالیٰ کے مسیح نے جو حکم